بھٹکل:25؍جولائی (ایس اؤ نیوز)بھٹکل میں ہائی ٹیک بس اسٹینڈ کی تعمیر کے ساتھ ہی عوام سمجھ رہے تھے کہ برسوں کی مانگ پوری ہوئی ، اب مسافروں کو آنے جانےکے لئے راحت ہوگی۔ لیکن ہائی ٹیک بس اسٹینڈ کا منظر عوام کی مثبت سوچ کے مخالف نظر آرہاہے۔ بس اسٹینڈ میں داخل ہونے کے لئے آپ کو تالاب سے گزرنا ہوگا۔ کپڑے ، پیر، جوتے سب کچھ مٹی اور کیچڑ میں دھنس جانے کے بعد ہی آپ بس پر چڑھ سکیں گے۔ حالات یہ ہیں کہ بس اسٹیند کے ابتر حالات پر عوام ملامت کررہے ہیں۔
بس اسٹینڈ کے اندر داخل ہوتے ہوئے جب تک آپ کے کپڑے گندے نہ ہوجائیں، پیر اور جوتے مٹی اور کیچڑ میں دھنس نہ جائیں داخل نہیں ہوسکتے۔ اور اگر آپ بائک پر ہیں اچانک آنکھ جھپکی، توازن بگڑا، تو گرنا یقینی ہے۔ کالج و اسکول کے طلبا ہوں اور مسافروں کو بس پر چڑنا یا اترنا ہو تو اس کو گندے پانی سے گزرنا ضروری ہے۔ سرکاری بسوں کا بس اسٹینڈ کے اندر داخل ہونے کا منظر بھی کسی ناٹک سے کم نہیں ہوتا، ڈولتے ڈلتے ایسے ویسے داخل ہوتی ہیں۔ پچھلے دنوں برسی موسلادھار بارش سے باب الداخلہ پر جمع پانی اورکیچڑ پھیل کر پاس کے رکشا اسٹینڈ تک گیا ہے۔ اندرونی نالیاں بند ہوجانے سے گندہ اور غلیظ پانی راستوں پر بہہ رہا ہے۔ آٹورکشا والوں کو اپنی کمائی کے لئے مسافروں کا انتظار کرنا محال ہوگیا ہے۔
یاد رہے کہ بھٹکل کا ہائی ٹیک بس اسٹینڈ تعمیر ہوکر مہینے گزرچکے ہیں ،لیکن ابھی تک افتتاح نہیں ہواہے۔گرچہ عوامی استعمال کے بہانے نئے ہائی ٹیک بس اسٹینڈ کے اندرسرگرمیاں جاری ہیں۔ بسوں کا اندر آناجانا جاری ہے۔ مسافر جب کبھی اپنی بس کی تلاش کے لئے اندر قدم رکھنے کا ارادہ کرتے ہیں تو تالاب ان کا استقبال کرتاہے۔ اب’ ہائی ٹیک‘نامی لفظ اپنی معنی کھو چکا ہے۔ بس اسٹینڈ کے اندر بھی آدھا حصہ کانکریٹ کاہے تو بقیہ آدھا حصہ گڑھوں سے بھر گیا ہے۔ بس اسٹینڈ سے متصل گزرنے والی قومی شاہراہ پر توسیع کا کام بھی جاری ہے، لیکن یہ کام بھٹکل کے شہری سطح پر بڑی سست روی کا شکار ہے۔ اب عوام کے سامنے سوال پیدا ہواہے کہ بس اسٹینڈ کاباب الداخلہ کس محکمہ کے ماتحت آتاہے ، کونسا محکمہ ان گڑھوں کو بند کرے گا، کون پانی کو نکال باہر کرے گا۔وہیں یہ بات بھی سننے میں آئی ہے کہ درستی کے کام کے لئے محکمہ کے پاس ضروری فنڈ بھی نہیں ہے۔ عوام ہنگامہ کرتےہیں تو عارضی طورپر مٹی ، جھلی وغیرہ ڈال کر آنکھوں پر پردہ ڈالنےکی کوشش کی جاتی ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ ہائی ٹیک بس اسٹینڈ کی قسمت میں باب الداخلہ کی مستقل درستی ہے یا نہیں ۔
اس سلسلےمیں بھٹکل کی اسسٹنٹ کمشنر ممتادیوی کا کہنا ہےکہ بس اسٹینڈ کے باب الداخلے کے مسئلے کو لےکر سرسی زون کے ٹرانسپورٹ ڈی سی کو مستقل حل کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ فی الحال وہاں عارضی طورپر مٹی وغیرہ ڈال کر گڑھے کو بند کیاگیا ہے۔
افسران کا دورہ :بس اسٹینڈ کے باب الداخلہ کے مسئلے کو لے کر عوامی سطح پر برہمی میں اضافہ ہوتے ہی بھٹکل اسسٹنٹ کمشنر ممتا دیوی ،تحصیلدار روی چندر، بھٹکل میونسپالٹی چیف آفیسر رادھیکا، صحت عامہ افسر سوجیا سومن، وینوگوپال شاستری ، بس ڈپو مینجر دیواکر اپنے عملے کے ساتھ سنیچر کی شام بس اسٹینڈ پہنچ کر حالات کا معائنہ کیا۔ افسران کے پہنچتے ہی عوام نے اپنی برہمی کا اظہار کرتےہوئے فوری توجہ نہ دینے پر سخت اعتراض جتاتے ہوئے کہاکہ عارضی حل نہیں بلکہ مستقل حل تلاش کیا جائے۔
ساحل آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر ممتا دیوی نے بتایا کہ عارضی طور پر بس اسٹینڈ کے داخلے پر جو پانی جمع ہورہا ہے، اُسے قریبی نالے میں بہانے کے لئے میونسپالٹی اور آئی آر بی کو احکامات جاری کئے ہیں اور قریبی نالے کو صاف کرکے پانی کو راستہ دیا جارہا ہے، انہوں نے کہا کہ جے سی بی کے ذریعے فوری طور پر کام شروع کیا گیا ہے، اسی طرح تین دن کے اندر عارضی طور پر ہی سہی متاثرہ جگہ پر تار کول والی مٹی بچھانے کے بھی احکامات دئے گئے ہیں۔ آگے بتایا کہ سرسی زون کے ٹرانسپورٹ ڈپٹی کمشنر کو مستقل حل کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔